نئی دہلی،30؍مارچ(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )بارہویں کے لیک ہوئے پیپر کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ بارہویں کے معاشیات کا دوبارہ امتحان 25 اپریل کو ہوگا جبکہ دسویں کے لیک ہوئے ریاضی کے پیپر کا دوبارہ امتحان جولائی میں کرایا جائے گا۔اس بات کا اعلان ایجوکیشن سکریٹری انل سوروپ نے کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دسویں کا پیپر لیک صرف دہلی اور ہریانہ تک ہی محدود تھا ، اس لئے صرف دہلی اور ہریانہ میں ہی دوبارہ امتحان ہوگا ۔ اس بارے میں فیصلہ اگلے 15 دنوں میں کیا جائے گا۔ امتحان جولائی میں ہوگا۔ادھر پیپر لیک ہونے کے خلاف طلبہ میں شدید ناراضگی ہے اور ملک کی کئی ریاستوں میں طلبہ احتجاج کررہے ہیں ۔ طلبہ سی بی ایس کے طریقہ کار سے کافی ناراض ہیں۔ طلبہ کے احتجاج کے پیش نظر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڑیکر کی رہائش گاہ کے باہر دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے۔یہی نہیں پیپر لیک کو لے کر مرکزی حکومت کو اندرون خانہ بھی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس کے راجیہ رکن راجیو چندر شیکھرنے دوبارہ امتحان کرائے جانے پر سوال اٹھایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ امتحان کرائے جانے کی بجائے یہ پتہ لگایا جائے کہ پیپر لیک ہونے سے کن کن طلبہ کو فائدہ ہوا ہے اور پھر صرف انہی طلبہ کے نتائج کو رد کیا جائے۔دریں اثنا دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی جاوڑیکر کو ایک خط لکھا ہے ۔ منیش نے اپنے خط میں کہا ہے کہ دو پیپروں کے امتحانات دوبارہ کرائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے ، لیکن ایسی خبریں ہیں کہ کئی دیگر پیپر بھی لیک ہوئے ہیں۔ امتحان کی شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے مناسب جانچ ضروری ہے۔خیال رہے کہ سی بی ایس ای کے دسویں کے ریاضی اور بارہویں کے معاشیات کے پیپر لیک ہوگئے تھے ، جس کی وجہ سے دونوں کے امتحانات کو رد کردیا گیا اور دوبارہ کرائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم اس بات کو لے کر طلبہ ، سرپرست اور اساتذہ میں کافی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔